عقیدہ تثلیث
یہ عقیدہ مسیحی حضرات کا ہے ۔ ان کے نزدیک خدا واحد ہے لیکن اس کے تین اقنوم یعنی تین اشخاص ہیں ، جو کہ: ۱ خدا ، ۲ بیٹا ، ۳ روح القدس ہیں ۔ یہ تینوں اقانیم اگرچہ خدائی صفات کے حامل ہیں اور ایک دوسرے کے ہم پلہ وہم سر ہیں لیکن تینوں میں برتری خدا باپ کو حاصل ہے ۔ لہذا نا تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ خدا تین ہیں کیونکہ خدا تو ایک ہے اور نا ہی یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان تین اقانیم سے مل کر ایک خدا بنا ہے کیونکہ یہ تینوں اقانیم اپنی اپنی جگہ خدا ہیں۔ نیز اس طرح تین خداووں کا وجود لازم آئے گا ، نیز اس طرح واحد خدا کے تین جزو ہوجائیں گے جبکہ خدا تو ایک ہے لہذا اسے یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ " تین میں ایک اور ایک میں تین " ہے ۔ چونکہ اس عقیدے کے مطابق ایک خدا کے تین اقانیم ہیں جبکہ تین کو عربی میں ثلاثہ کہا جاتا ہے لہذا اس عقیدے کو تثلیث کہا گیا ہے ۔ |
عقیدہ توحید
دین اسلام کے مطابق تمام الہامی ادیان میں یہ عقیدہ ہمیشہ سر فہرست رہا ہے ، اسی لیے اسلام میں اس عقید کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ توحید سے مراد ایک ایسی ہستی پر ایمان لانا ہے جس نے کائنات اور تمام مخلوق کو تخلیق کیا ۔ یہ ہستی تمام اچھی صفات کی حامل ہے۔ مخلوقات میں جس کو جو کچھ بھی حاصل ہے وہ تمام صفات وکمالات اسی ہستی کی عطا کردہ ہیں۔ چونکہ وہ کسی سے پیدا نا ہوا ، نا اس سے کوئی اولاد ہے، نا اسے کسی کی حاجت ہے جبکہ تمام مخلوقات اسی کی پیدا کردہ اور صفات وکمالات سے متصف کردہ ہیں، اس لیے وہ سب سے برتر ، اکبر اور عظیم ہے لہذا وہی ھستی لائق عبادت وبندگی ہے چونکہ اس کا کوئی شریک نہیں ، وہ " احد " یعنی یکتا ہے ، لہذا ایسی ہستی پر درج بالا ایمان رکھنا " عقیدہ توحید " کہلاتا ہے۔ |